-Advertisement-

بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے درمیان امریکی وزیر محنت لوری شاویز ڈیریمر مستعفی

تازہ ترین

پاکستان کی جانب سے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی ہے جس کے...
-Advertisement-

امریکی وزیر محنت لوری شاویز ڈی ریمر نے اپنے محکمے میں بدعنوانی اور پیشہ ورانہ بدانتظامی کے الزامات کے بعد پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل ان کے اور ان کے قریبی رفقاء کے خلاف جاری تحقیقات کے حتمی مراحل میں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق لوری شاویز ڈی ریمر کے نائب کیتھ سونڈرلنگ عبوری وزیر محنت کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لوری شاویز ڈی ریمر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ انتظامیہ سے رخصت ہو رہی ہیں لیکن امریکی مزدوروں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور اب وہ نجی شعبے میں اپنے مستقبل کے لیے پرعزم ہیں۔

محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل گزشتہ کئی ماہ سے ایک وسل بلور کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان الزامات میں وزیر موصوفہ کا اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ مبینہ تعلق اور سرکاری وسائل کو ذاتی دوروں کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔ تحقیقات کے سلسلے میں لوری شاویز ڈی ریمر کا انٹرویو بھی متوقع تھا۔

لوری شاویز ڈی ریمر کی رخصتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ سے حالیہ ہفتوں میں جانے والی تیسری شخصیت ہیں۔ اس سے قبل مارچ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کو برطرف کیا گیا تھا جبکہ اٹارنی جنرل پام بونڈی بھی ایک ماہ کے اندر اپنا عہدہ چھوڑ چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے سیاسی اثرات اور کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی تشویش ان تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔

لوری شاویز ڈی ریمر مارچ 2025 میں اس عہدے پر فائز ہوئی تھیں اور اس سے قبل وہ دو برس تک امریکی ایوان نمائندگان کی رکن رہی تھیں۔ ان کی تقرری کے وقت انہیں دو جماعتی حمایت حاصل تھی اور مختلف لیبر یونینز نے بھی ان کے نام کی تائید کی تھی۔ تاہم ان کا دور اقتدار مختلف تنازعات میں گھرا رہا جس کے نتیجے میں ان کے چیف آف اسٹاف اور ڈپٹی چیف آف اسٹاف پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل ان الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں وزیر اور ان کے معاونین کی جانب سے نوجوان عملے کو نامناسب پیغامات بھیجنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -