-Advertisement-

غزہ میں بلدیاتی انتخابات: حماس کی مقبولیت جانچنے کا ایک نادر موقع

تازہ ترین

ایران کی عسکری صلاحیتیں امریکی دعووں سے کہیں زیادہ ہیں، خفیہ ذرائع کا انکشاف

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں وائٹ ہاؤس...
-Advertisement-

غزہ کے شہر دیر البلح میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے محفوظ رہنے والے چند علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ انتخابات حماس کے حامی امیدواروں کی موجودگی کے باعث تنظیم کی مقبولیت جانچنے کا ایک نادر موقع سمجھے جا رہے ہیں۔ سنہ 2006 کے بعد غزہ میں یہ پہلا انتخابی عمل ہے، جسے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے قومی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس امریکی منصوبے کے خلاف ایک پیغام ہے جس کا مقصد غزہ کو مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ کرنا ہے۔ دیر البلح میں ووٹنگ کے لیے 12 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں کھلے میدان اور خیمے بھی شامل ہیں۔ سینٹرل الیکشن کمیشن کے ترجمان فرید طعم اللہ کے مطابق تقریباً 70 ہزار فلسطینی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔

مقامی رہائشی 34 سالہ ادھم البردینی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت کو بدلنے کے خواہشمند ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ انتخابات میں چار مختلف پینلز حصہ لے رہے ہیں جن میں حماس کے حامی امیدوار بھی شامل ہیں۔ اگرچہ حماس نے باضابطہ طور پر کسی پینل کی حمایت نہیں کی، تاہم سیاسی تجزیہ کار ہانی المصری کے مطابق تنظیم ان نتائج کو اپنی عوامی حمایت جانچنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے واضح کیا ہے کہ تنظیم انتخابی نتائج کا احترام کرے گی اور پولنگ مراکز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے اہلکار تعینات کرے گی۔ دوسری جانب، فلسطینی سیاسی تجزیہ کار ریہم عودہ نے ان انتخابات کو علامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دنیا اور اسرائیل کو یہ پیغام دینا ہے کہ غزہ فلسطینی سیاسی نظام کا اٹوٹ انگ ہے۔

یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس غزہ کے مستقبل کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کر رہا ہے، جس میں غزہ کا انتظام ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی تجویز شامل ہے۔ تاہم حماس نے اب تک ہتھیار ڈالنے اور اقتدار منتقل کرنے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ 25 سالہ عبد الرحمٰن الشاف کے مطابق دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد یہ انتخابات مقامی سطح پر زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ایک امید ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -