-Advertisement-

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شاہ چارلس سوم کے ساتھ نجی گفتگو کے انکشاف پر سفارتی حلقوں میں تشویش

تازہ ترین

برطانیہ: مذہبی گروہ کے مراکز پر چھاپے، جبری مشقت اور جنسی جرائم میں ملوث 9 افراد گرفتار

برطانیہ کے شمال مغربی علاقے میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ...
-Advertisement-

لندن میں شاہ چارلس سوئم اور ملکہ کمیلا کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شاہی گفتگو کو منظر عام پر لانے کے اقدام نے برطانوی سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شاہ چارلس کے ساتھ نجی ملاقات میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنے کے معاملے پر اتفاق پایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق شاہ چارلس اس معاملے پر ان کے ہم خیال ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

برطانیہ میں شاہی روایات کے مطابق شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کو عوامی سطح پر بیان کرنا غیر مناسب سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی بادشاہ سیاسی تنازعات سے بالا تر ہوتے ہیں اور ان کے پاس عوامی سطح پر اپنی کہی گئی باتوں کی وضاحت کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔

رائل ہالوے یونیورسٹی آف لندن کے آئینی قانون کے ماہر کریگ پریسکٹ نے اس عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والی نجی گفتگو کو خفیہ رکھنا سفارتی پروٹوکول کا حصہ ہے اور برطانوی حکومت اس طرح کے واقعات سے گریز کرنا چاہتی تھی۔

بکنگھم پیلس نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وضاحت کی کہ شاہ چارلس جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے برطانوی حکومت کی دیرینہ پالیسی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ محل کی جانب سے جاری بیان کا مقصد صدر کے بیان کو درست سیاق و سباق میں پیش کرنا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پروٹوکول توڑنے کی روایت کے پیش نظر خدشات پائے جاتے تھے کہ وہ شاہی خاندان کو کسی شرمناک صورتحال سے دوچار کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں شاہی موقف برطانوی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق رہا جس سے ایک بڑی سفارتی غلطی کا امکان ٹل گیا۔

اس دورے کے دوران شاہ چارلس نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کیا، جہاں انہوں نے نیٹو، یوکرین کی حمایت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی مسائل پر گفتگو کی۔ کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کو زبردست پذیرائی ملی۔

اب شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کا دورہ واشنگٹن سے نیویارک منتقل ہو رہا ہے جہاں ان کی توجہ سیاسی معاملات کے بجائے تخلیقی صنعتوں پر مرکوز رہے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس دورے میں یہی ایک تنازعہ رہا تو مجموعی طور پر یہ دورہ برطانوی حکومت اور شاہ چارلس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -