-Advertisement-

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ

تازہ ترین

امریکی فوجی کمانڈر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے منصوبے پر ٹرمپ کو بریفنگ دیں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔...
-Advertisement-

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں خلل کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں سات فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

برینٹ کروڈ کے جون کے سودے چھ اعشاریہ آٹھ ایک ڈالر یعنی پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ ایک سو چوبیس اعشاریہ آٹھ چار ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ یہ برینٹ آئل کی مارچ دو ہزار بائیس کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح جولائی کے لیے فعال سودے تین اعشاریہ تین چار ڈالر اضافے کے ساتھ ایک سو تیرہ اعشاریہ سات اٹھ ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے جون کے سودے دو اعشاریہ سات چھ ڈالر اضافے کے بعد ایک سو نو اعشاریہ چھ چار ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ دونوں اہم بینچ مارکس مسلسل چوتھے مہینے اضافے کی جانب گامزن ہیں اور رواں برس کے آغاز سے اب تک برینٹ آئل کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ممکنہ فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اٹھائیس فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جو عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔

تجزیہ کار ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ ایران تنازع کے حل یا آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تیل کمپنیوں کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے طویل مدتی اثرات کو کس طرح کم کیا جائے۔

اوآنڈا کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا کہ مارکیٹ کے شرکاء کی توجہ امریکی ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش پر مرکوز ہے، جو کہ اوپیک پلس کے اثر و رسوخ میں کمی سے زیادہ اہم ہے۔ دریں اثنا اوپیک پلس گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں ایک لاکھ اٹھاسی ہزار بیرل یومیہ اضافے کا متوقع فیصلہ بھی مارکیٹ پر گہرے اثرات نہیں ڈال سکے گا۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ بلند قیمتوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں سولہ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مقدار موجودہ سپلائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے رواں برس مارکیٹ کے بنیادی اصولوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -