لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے سترہ افراد ہلاک اور نو لاپتہ ہو گئے۔ ریڈ کریسنٹ اور لیبیا کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کشتی آٹھ روز تک سمندر میں بے یارومددگار تیرتی رہی جس کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
ریڈ کریسنٹ کے بیان کے مطابق لیبیا کی بحری افواج اور کوسٹ گارڈز کے ساتھ مل کر کیے گئے ریسکیو آپریشن کے دوران سات افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے نو افراد کی لاشیں آئندہ چند روز میں ساحل پر بہہ کر آنے کا خدشہ ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تصاویر میں ریڈ کریسنٹ کے رضاکاروں کو لاشوں کو سیاہ تھیلوں میں بند کر کے گاڑیوں میں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیبیا افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں لوگ غربت اور تنازعات سے بچنے کے لیے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
دریں اثنا عدالتی کارروائیوں میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ منگل کے روز طرابلس کی ایک عدالت نے زوارہ میں انسانی سمگلنگ، تاوان کے لیے اغوا اور تشدد میں ملوث ایک مجرمانہ گروہ کے چار ارکان کو بائیس سال تک قید کی سزا سنائی۔
مزید برآں پیر کے روز پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک اور گروہ کی گرفتاری کا حکم دیا ہے جس پر الزام ہے کہ انہوں نے طبرق سے تارکین وطن کو ایک خستہ حال کشتی میں سمندر میں بھیجا تھا، جو بعد ازاں الٹ گئی تھی۔ اس حادثے میں سوڈان، مصر اور ایتھوپیا کے اڑتیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔
