-Advertisement-

مصنوعی ذہانت کا عروج: کمپیوٹرز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خدشہ

تازہ ترین

کنگ چارلس کا خطاب: امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات موجودہ سیاست سے بالاتر ہیں، ٹینا براؤن

برطانوی شاہ چارلس سوئم کا کانگریس سے خطاب دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی تجدید اور مفاہمت کا...
-Advertisement-

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی نے جہاں صارفین کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھولے ہیں، وہیں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کمپیوٹرز اور دیگر ہارڈویئر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے لیے درکار بے پناہ کمپیوٹنگ پاور کی وجہ سے میموری چپس کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث پرسنل کمپیوٹرز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1980 کی دہائی کے اوائل کے بعد کمپیوٹرز کی قیمتوں میں اس قدر تیزی آئی ہے، جبکہ گزشتہ 40 برسوں کے دوران ان کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان پایا جاتا تھا۔

آکسفورڈ اکنامکس کی جانب سے سرکاری اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق، حال ہی میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں ماہانہ تین فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری ایڈوائزری فرم کے لیڈ اکانومسٹ برنارڈ یاروس کے مطابق، یہ ایسی مصنوعات ہیں جن میں چپس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور روایتی طور پر ان کی قیمتیں یا تو مستحکم رہتی تھیں یا ان میں کمی آتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ عارضی رجحان ہے یا مستقل، تاہم گزشتہ چند ماہ سے جاری یہ صورتحال مصنوعی ذہانت کے باعث پیدا ہونے والے افراط زر کے اثرات کو نمایاں کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ چپس کی یہ قلت کم از کم 2027 کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں اے آئی میں سرمایہ کاری کمپیوٹرز کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، تاہم ماہرین کو توقع ہے کہ ہارڈویئر کی مانگ میں کمی کے بعد فروخت کنندگان کے درمیان مسابقت قیمتوں کو دوبارہ اعتدال پر لے آئے گی۔

مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کا اثر دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ان کے لیے درکار توانائی کی بڑھتی ہوئی کھپت سے بجلی کے گرڈ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، ٹیکنالوجی اسٹاکس کی قدر میں تیزی نے سرمایہ کاروں کی قوت خرید کو بڑھایا ہے، جس سے مجموعی اخراجات اور افراط زر میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -