امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کے جائزے کو نظر انداز کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے زائد کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ان ممالک کو فوری ہتھیاروں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے اور کانگریسی جائزے کی قانونی ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو نو ہفتے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ تین ہفتے قبل ہونے والی نازک جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔
فروخت کے معاہدوں کے تحت قطر کو چار اعشاریہ صفر ایک ارب ڈالر مالیت کا پیٹریاٹ ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس سسٹم اور نو سو بیانوے اعشاریہ چار ملین ڈالر کے ایڈوانسڈ پریسیژن کل ویپن سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کویت کو دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مالیت کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم، اسرائیل کو نو سو بیانوے اعشاریہ چار ملین ڈالر کے ایڈوانسڈ پریسیژن کل ویپن سسٹمز اور متحدہ عرب امارات کو ایک سو سینتالیس اعشاریہ چھ ملین ڈالر کے ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ان معاہدوں میں بی اے ای سسٹمز، آر ٹی ایکس، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومن جیسی بڑی کمپنیاں مرکزی ٹھیکیدار ہوں گی۔
واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کشیدگی اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ان اتحادی ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں اقلیتوں، صحافیوں اور تارکین وطن مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں، تاہم متعلقہ ممالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیل کے فوجی آپریشن کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران اور نسل کشی کے الزامات کے باوجود واشنگٹن اپنے اتحادیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
