-Advertisement-

تائیوان کو عالمی دنیا سے رابطے سے کوئی نہیں روک سکتا، صدر لائی چنگ تے

تازہ ترین

ایران نے غلطی کی تو امریکا دوبارہ حملے کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ معاہدے کے تصور کی تصدیق کرتے ہوئے...
-Advertisement-

تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے ایسواتینی کے بادشاہ سے ملاقات کے دوران دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ تائیوان کو دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کوئی بھی ملک اس عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب بیجنگ نے اس سفر کو روکنے کی مبینہ کوشش کی تھی اور چینی حکام نے صدر لائی کے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس بات کا سختی سے مخالف ہے کہ تائیوان کسی دوسرے ملک کے ساتھ ریاستی سطح کے تعلقات رکھے۔ بیجنگ کا مطالبہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک تائیوان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا سرکاری روابط ختم کریں۔

گزشتہ ماہ تائیوان نے دعویٰ کیا تھا کہ چین نے بحر ہند کے تین ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ صدر لائی کے طیارے کو ایسواتینی جانے کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ صدر لائی یہ دورہ شاہ مسواتی سوئم کی تخت نشینی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر کر رہے ہیں۔ ایسواتینی ان بارہ ممالک میں شامل ہے جن کے تائیوان کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔

صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر لائی نے کہا کہ جمہوریہ چین یعنی تائیوان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے دو کروڑ تیس لاکھ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عالمی برادری کا حصہ بنیں، اور کسی بھی ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ تائیوان کی عالمی شراکت داری کو روکنے کی کوشش کرے۔

صدر لائی ہفتے کے روز غیر اعلانیہ طور پر ایسواتینی پہنچے۔ تائیوان کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دورے کا اعلان تاخیر سے کرنے کا مقصد بیرونی قوتوں کی جانب سے ممکنہ مداخلت اور خطرات کو کم کرنا تھا۔

دوسری جانب چین کے تائیوان امور کے دفتر نے صدر لائی کے اس دورے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چینی ترجمان نے ایک بیان میں صدر لائی کے اس اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ عمل گلی میں بھاگتے ہوئے چوہے جیسا ہے جس پر عالمی برادری مذاق اڑائے گی۔

اس بیان کے جواب میں تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے واضح کیا ہے کہ صدر لائی کو کہیں بھی جانے کے لیے بیجنگ سے کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -