نوبیل امن انعام یافتہ ایرانی کارکن نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے اور انہیں فوری طور پر ماہرانہ طبی امداد کی ضرورت ہے۔ نرگس محمدی کے بھائی حمید رضا محمدی نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں بتایا کہ جیل میں قید ان کی بہن کو دل کے عارضے کا سامنا ہے جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
نرگس محمدی کو گزشتہ ماہ مارچ کے آخر میں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد یکم مئی کو صحت بگڑنے پر انہیں شمال مغربی ایران کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ شدید سر درد، متلی اور سینے میں تکلیف جیسے مسائل سے نبردآزما ہیں۔
حمید رضا محمدی کا کہنا ہے کہ جس مقامی ہسپتال میں نرگس محمدی زیر علاج ہیں، وہاں ان کے علاج کے لیے ضروری طبی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور انہیں مکمل صحت یابی کے لیے کم از کم ایک ماہ تک جیل کے ماحول سے دور رہ کر اپنے معالجین کی زیر نگرانی علاج کروانے کی ضرورت ہے۔
خاندان اور نارویجن نوبیل کمیٹی نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نرگس محمدی کو فوری طور پر تہران منتقل کیا جائے تاکہ ان کی ٹیم ان کا علاج کر سکے۔ نرگس محمدی کو 2023 میں ایران میں خواتین کے حقوق اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔
حمید رضا محمدی نے اپنی بہن کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی حکومت کے سامنے جھکنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں صورتحال ہنگامی نوعیت کی ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی اور سزائے موت پر عمل درآمد روز کا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایران میں جاری انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر توجہ دے۔
