-Advertisement-

امریکا نے ایران کے خلاف آپریشن کے مقاصد حاصل کر لیے ہیں، مارکو روبیو

تازہ ترین

پنجاب ترقی کے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے: مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے صوبے میں ترقی کے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کے اہداف حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بیان وائٹ ہاؤس بریفنگ روم میں ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ روبیو کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران کا افزودہ یورینیم ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا، تاہم آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے کا نیا مشن ایک الگ اور دفاعی نوعیت کا آپریشن ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان کانگریس کے ان ارکان کی تنقید کا جواب سمجھا جا رہا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وار پاورز ریزولیوشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ 1973 کے اس قانون کے تحت صدر کو فوجی کارروائی کے لیے 60 دن کی مہلت حاصل ہوتی ہے۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، جس کے بعد گزشتہ جمعہ کو یہ 60 دن کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے گزشتہ جمعہ کو یہ اعلان کر کے قانونی پیچیدگی ختم کرنے کی کوشش کی کہ آپریشن ایپک فیوری کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مارکو روبیو نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے اہداف پورے ہو چکے ہیں اور صدر ٹرمپ اب امن اور معاہدے کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا نیا منصوبہ پروجیکٹ فریڈم ایک محدود اور دفاعی کارروائی ہے، جس میں امریکہ صرف اسی صورت میں عسکری طاقت استعمال کرے گا اگر اس پر حملہ کیا گیا۔

روبیو نے تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف بنیادی مقاصد میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنا شامل تھا، لیکن ایران کے پاس موجود 900 پاؤنڈ یعنی 408 کلو گرام سے زائد افزودہ یورینیم اب بھی تہران کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف ممالک کے 10 سویلین ملاح ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ خلیج میں پھنسے جہازوں پر سوار 23 ہزار افراد مشکلات کا شکار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کو زمینی حقائق تسلیم کر لینے چاہئیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ روبیو کے مطابق کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے زیر زمین چھپائے گئے جوہری مواد کے مستقبل کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی ہے، جس کے لیے واضح شرائط اور ٹھوس پیش رفت کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -