امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تہران اپنی حتمی رائے مرتب کرنے کے بعد ثالث ملک پاکستان کے ذریعے اپنا جواب واشنگٹن تک پہنچائے گا۔ علاقائی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے یہ جواب جمعرات کو متوقع ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل نے بیروت پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ سترہ اپریل کو نام نہاد جنگ بندی کے نفاذ کے بعد دارالحکومت بیروت پر یہ پہلا حملہ ہے۔ بدھ کے روز اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم تیرہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت میں کیے گئے حملے کا ہدف حزب اللہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر تھا۔
حماس نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی علاقے میں اپنی نسل کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس دوران ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ نئے طریقہ کار کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ نقل و حمل ممکن بنائی جائے گی۔ ادھر امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم بردار ایک ٹینکر کو اس وقت روک لیا جب وہ ایرانی بندرگاہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
