پرنسس آف ویلز نے کینسر کے علاج کے بعد اپنی پہلی غیر ملکی روانگی سے قبل بچوں کی نشوونما کے ایک اہم منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق شاہی فرائض میں بتدریج واپسی کرتے ہوئے شہزادی نے چھ مئی کو یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے منصوبے کے نئے مرحلے کا افتتاح کیا۔
شہزادی کا شمالی اٹلی کا دو روزہ دورہ ریجیو ایمیلیا طریقہ کار پر مرکوز ہوگا جو پری اسکول اور پرائمری اسکول کے بچوں کی تعلیم پر مبنی ایک فلسفہ ہے۔ سینٹر فار ارلی چائلڈہوڈ اس حوالے سے بچوں پر اسٹریس سینسرز اور مانیٹرنگ ڈیوائسز کے استعمال کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ان کے جذباتی ردعمل اور مختلف حالات میں ان کے برتاؤ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
کینسنگٹن پیلس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہزادی اگلے ہفتے اٹلی کے دورے کے لیے پرعزم ہیں جہاں وہ ذاتی طور پر مشاہدہ کریں گی کہ کس طرح ریجیو ایمیلیا کا طریقہ کار فطرت اور انسانی تعلقات کے امتزاج سے بچوں کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پرنسس آف ویلز نے دو ہزار اکیس میں فاؤنڈیشنز فار لائف نامی گائیڈ کا اجرا کیا تھا جس کا مقصد والدین اور اساتذہ کو بچوں کی ابتدائی جذباتی نشوونما سے آگاہ کرنا ہے۔ اس موقع پر شہزادی کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اور منتشر ہوتی دنیا میں انسانی تعلقات میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشرہ اکثر تعلیمی اور جسمانی کامیابیوں پر توجہ دیتا ہے تاہم تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ابتدائی تعلقات اور تجربات ہی مستقبل کی خوشحالی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ کینسر کی تشخیص سے قبل شہزادی اپنے شاہی فرائض کی انجام دہی میں انتہائی متحرک تھیں اور انہوں نے سال دو ہزار تیئس کے دوران ایک سو اٹھائیس شاہی مصروفیات میں شرکت کی تھی۔
