-Advertisement-

ایران جنگ: ٹویوٹا کو 4.3 ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ

تازہ ترین

پوپ لیو کی عالمی رہنماؤں سے کشیدگی کم کرنے اور نفرتیں مٹانے کی اپیل

پوپ لیو نے اپنی سربراہی کے پہلے سال مکمل ہونے کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے...
-Advertisement-

دنیا کی سب سے بڑی آٹو موبائل ساز کمپنی ٹویوٹا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث جاری مالی سال کے دوران کمپنی کو چار اعشاریہ تین ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر کسی بھی بڑی کمپنی کی جانب سے خطے کے بحران کے اثرات کے حوالے سے سب سے نمایاں انتباہ ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا کے منافع میں پچاس فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایندھن اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی چین میں تعطل کے باعث رواں سال مجموعی منافع میں بیس فیصد تک گراوٹ کا امکان ہے۔

ٹویوٹا نے اکتیس مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران پانچ سو انہتر اعشاریہ چار ارب ین کا آپریٹنگ منافع ظاہر کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ین تھا۔ کمپنی کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے دوران آپریٹنگ منافع تین ٹریلین ین تک رہے گا، جو تجزیہ کاروں کے چار اعشاریہ پانچ نو ٹریلین ین کے تخمینے سے کافی کم ہے۔ رپورٹ کے بعد ٹویوٹا کے حصص کی قیمت میں دو اعشاریہ دو فیصد کی کمی دیکھی گئی، جو اکتوبر کے وسط کے بعد نچلی ترین سطح ہے۔

کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو کینٹا کون نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ یہ وقت مکمل طور پر رک جانے کا نہیں بلکہ ایک ایک کر کے نقصانات کی نشاندہی کرنے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا ہے۔ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران تین اعشاریہ آٹھ ٹریلین ین کا منافع کمانے پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

ٹویوٹا کے مطابق چار اعشاریہ تین ارب ڈالر کے متوقع نقصان میں چار سو ارب ین کا بوجھ بڑھتی ہوئی لاگت اور ایندھن کی قیمتوں، جبکہ دو سو ستر ارب ین کا نقصان پیداواری حجم میں کمی اور لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ہوگا۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ رواں برس ایسی گاڑیوں کی فروخت پہلی بار پچاس لاکھ یونٹس سے تجاوز کر جائے گی، تاہم یہ اضافہ مجموعی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے لیے ناکافی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے علاوہ آٹو انڈسٹری کو امریکی ٹیرف اور چینی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے مقابلے کا بھی سامنا ہے۔ ٹویوٹا کے سی ای او کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے اثرات سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ سال کمپنی کے منافع میں ایک اعشاریہ چار ٹریلین ین کی کمی ہوئی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -