-Advertisement-

مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، پاکستان کا اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ

تازہ ترین

ایچ ای سی کی جانب سے ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز کی پالیسی کی منظوری

اسلام آباد (اے پی پی) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ...
-Advertisement-

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور الحاق کے اقدامات ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدوں کو ختم کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بااثر عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے برطانیہ، فرانس اور دیگر رکن ممالک کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نئی قانون سازی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ڈی فیکٹو الحاق کو ڈی جیوور کنٹرول میں تبدیل کرنے کی کوششیں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا منظم الحاق، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ درکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی یہ پالیسیاں ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے امکانات کو تباہ کر رہی ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران اسرائیل نے 102 نئی بستیوں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مشرقی یروشلم کے قریب متنازعہ ای ون منصوبے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنا دے گا۔

پاکستان نے مقبوضہ علاقوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کے اعتبار سے 2006 کے بعد سے بدترین سال ثابت ہوا ہے۔

مندوب نے دو ریاستی حل کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

یہ اجلاس ڈنمارک، فرانس، یونان، لٹویا اور برطانیہ کے مستقل مشنز کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا تاکہ سلامتی کونسل کے اراکین کو مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -