صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے دوران امریکی صدر اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے مابین ہونے والی ملاقات میں ایران جنگ یا آبنائے ہرمز کے بحران کے بجائے تائیوان کا تنازع سر فہرست رہے گا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں یہ سب سے اہم موڑ ہے۔
امریکہ دہائیوں سے تائیوان کے معاملے پر تزویراتی ابہام کی پالیسی پر کاربند ہے اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ چین کے حملے کی صورت میں امریکہ عسکری مداخلت کرے گا یا نہیں۔ اس کے باوجود امریکہ تائیوان کو پچاس ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ فراہم کر چکا ہے۔ گزشتہ برس گیارہ ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے کی منظوری پر چین نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا، جبکہ اب چودہ ارب ڈالر کا ایک نیا پیکج صدر ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس پیکج پر شی جن پنگ سے مشاورت کا عندیہ دیا ہے، جو سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے انیس سو بیاسی کے وعدوں کی خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔
تائیوان کے حکام کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ بیجنگ کے دباؤ میں آ کر تائیوان کے مفادات پر سمجھوتہ نہ کر لیں۔ چین چاہتا ہے کہ امریکہ تائیوان کی آزادی کے حوالے سے اپنی سفارتی زبان میں تبدیلی لائے اور یہ واضح کرے کہ امریکہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرتا ہے۔ تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو ایک قابل اعتماد اتحادی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین اور مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری نوے فیصد ہائی اینڈ سیمی کنڈکٹرز تائیوان تیار کرتا ہے، جس سے امریکہ اور تائیوان کے مابین باہمی مفادات وابستہ ہیں۔
صدر شی جن پنگ تائیوان کے انضمام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ایک ملک دو نظام کا ماڈل پیش کر رہے ہیں اور طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا گیا۔ تاہم، تائیوان کے نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تائیوان کے عوام کسی صورت چین کے ساتھ انضمام قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ہانگ کانگ میں دو ہزار انیس کے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کا رویہ تائیوان کے جمہوری معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے تائیوان پر حملے کی تیاریوں میں تاخیر ہوئی ہے جس کی وجہ چینی فوج کی اعلیٰ کمان میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ تائیوان کے نائب وزیر خارجہ نے زور دیا کہ تائیوان کے عوام نے کبھی چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر زندگی نہیں گزاری، اس لیے وہ اپنی جمہوری آزادی اور انسانی حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے۔
