-Advertisement-

فلپائن کی سینیٹ میں فائرنگ، عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال: 14 ہزار سے زائد پاکستانی ایران سے وطن واپس پہنچ گئے

خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وطن واپسی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ 28 فروری سے اب...
-Advertisement-

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں سینیٹ کی عمارت اس وقت میدان جنگ بن گئی جب بدھ کی شام وہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس ہنگامہ خیز صورتحال کے دوران سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے سے روکیں۔

سینیٹ کی عمارت میں ایک درجن سے زائد گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد وہاں موجود افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ 64 سالہ سینیٹر ڈیلا روزا پر سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کے دور حکومت میں منشیات کے خلاف مہم کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد ہیں۔

رواں برس مارچ میں سابق صدر ڈوٹیرٹے کو بھی منشیات کے خلاف مہم میں ہونے والی ہلاکتوں کے وارنٹ پر گرفتار کر کے ہیگ منتقل کیا جا چکا ہے۔ ڈوٹیرٹے اور ڈیلا روزا دونوں ہی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جون 2016 میں صدر بننے کے بعد روڈریگو ڈوٹیرٹے نے ڈیلا روزا کو فلپائن نیشنل پولیس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ ڈیلا روزا نے عہدہ سنبھالتے ہی ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا جسے پروجیکٹ ڈبل بیرل کا نام دیا گیا۔ اس مہم کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

ڈیلا روزا اپنے دور میں سخت گیر بیانات کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر کوئی مزاحمت کرے گا تو مارا جائے گا، اور اگر کوئی مزاحمت نہیں کرے گا تو ہم اسے مزاحمت پر مجبور کریں گے تاکہ خوف پیدا کیا جا سکے۔

پولیس فورس چھوڑنے کے بعد ڈیلا روزا نے سیاست میں قدم رکھا اور 2019 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ مئی 2025 کے انتخابات میں وہ دوسری بار سینیٹ کے رکن بنے۔ رواں ہفتے وہ طویل عرصے بعد سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے تاکہ نائب صدر سارہ ڈوٹیرٹے کے خلاف ممکنہ مواخذے کی تحریک میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -