-Advertisement-

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا وسطی ایران میں امریکی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تازہ ترین

ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی میں واضح تضاد

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین تعلقات بظاہر خوشگوار دکھائی دیتے ہیں،...
-Advertisement-

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کے روز وسطی ایران کی فضائی حدود میں امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بج کر پچاس منٹ پر پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے گر کر تباہ ہونے کا قوی امکان ہے تاہم اس کی حتمی صورتحال جانچ پڑتال کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی 125 سے زائد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنانے کے بعد عمل میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام میں ہونے والی نمایاں اور ہدف پر مبنی بہتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایک ایف-35 طیارے نے ایران کے اوپر جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طیارے کو ایرانی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ 28 فروری کو واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے شروع کیے گئے مشترکہ جارحانہ آپریشن کے بعد سے اب تک ایران میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جارحیت کے دوران ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو بھی قتل کیا گیا تھا۔

ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کے باعث بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ فضائی آمدورفت کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -