-Advertisement-

امریکہ اسرائیل ایران کشیدگی: آئی ایم ایف کا عالمی افراطِ زر اور پیداوار پر تشویش کا اظہار

تازہ ترین

پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی تردید

امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ کی جانب سے پاکستان کے میزائل اور جوہری پروگرام کے حوالے سے...
-Advertisement-

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے عالمی افراط زر اور پیداوار پر مرتب ہونے والے اثرات کی نگرانی کر رہا ہے۔ فنڈ کی چیف ترجمان جولی کوزیک نے پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ تاحال کسی بھی ملک نے اس تنازع کے تناظر میں ہنگامی مالی امداد کے لیے باضابطہ درخواست نہیں دی ہے۔

ترجمان کے مطابق اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ایک عمومی تخمینے کے تحت اگر تیل کی قیمتیں ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں تو عالمی افراط زر میں دو فیصد تک اضافہ اور پیداوار میں ایک فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

فروری کی اٹھائیس تاریخ کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہو چکی ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا بیس فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ جمعرات کے روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہوا جو جنگ سے قبل کی قیمتوں کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ ہے۔

جولی کوزیک نے خبردار کیا کہ معاشی طور پر کمزور ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے پاس پالیسی سازی کے لیے محدود گنجائش اور وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع کے باعث کھاد کی ترسیل اور نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے خوراک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آئی ایم ایف عالمی مالیاتی حالات، اجناس کی قیمتوں اور افراط زر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ متاثرہ ممالک کی معیشتوں پر اثرات کا انحصار جنگ کی شدت اور دورانیے پر ہوگا، تاہم فنڈ ہر ممکنہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -