-Advertisement-

سری لنکا کا خطے میں کشیدگی کے پیش نظر امریکی جنگی طیاروں کی تعیناتی سے انکار

تازہ ترین

ایران کشیدگی: نیٹو نے عراق سے اپنے تمام فوجی دستے واپس بلا لیے

برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اتحاد نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن...
-Advertisement-

سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے سری لنکا میں امریکی جنگی طیارے تعینات کرنے کی واشنگٹن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

صدر دسانائیکے کے مطابق امریکہ نے رواں برس مارچ کے اوائل میں کولمبو سے رابطہ کیا تھا اور مٹالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو جنگی طیارے کھڑے کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ یہ طیارے اینٹی شپ میزائلوں سے لیس تھے اور انہیں جبوتی میں قائم امریکی اڈے سے سری لنکا منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

صدر نے واضح کیا کہ سری لنکن حکومت نے اس امریکی مطالبے کو سختی سے ٹھکرا دیا ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی میں فریق بننے سے گریز کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے کئی اتحادی ممالک ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازع میں شرکت سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں کے اس رویے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے تاہم وہ آبنائے ہرمز میں مائنز ہٹانے اور ٹینکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اتحادیوں سے مزید بحری جہازوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ عالمی تنازعات اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر اپنا کردار بڑھائیں۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ آپریشنز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -