اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے اس مقصد کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت غزہ میں فلسطینیوں کے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق گوتریس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس مقصد کا تعین اور منظوری سلامتی کونسل نے دی ہے اور اقوام متحدہ بورڈ آف پیس کے قائم کردہ ڈھانچوں کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہا ہے۔
سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے بعد اس بورڈ کی مزید ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سنگین مسائل کے حل کے لیے یہ موثر طریقہ نہیں ہے، ہمیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کے بارے میں واضح ہونا چاہیے کیونکہ کسی بھی امن اقدام کے لیے یہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انتونیو گوتریس نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس گزرگاہ کو بند نہ کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اقوام متحدہ اس آبی راستے کی حفاظت میں مدد کر سکتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے۔
گوتریس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی ہے، تاہم وہ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں سے رابطے میں ہیں۔
