ایران نے بحر ہند میں واقع برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ تزویراتی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل داغے ہیں۔ لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میزائل اس جزیرے سے کتنے قریب گرے، جبکہ یہ جزیرہ ایران سے تقریباً 2500 میل یعنی 4000 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
امریکی حکام ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں سکیورٹی آپریشنز کے لیے ایک ناگزیر مرکز قرار دیتے ہیں۔ اس اڈے پر تقریباً 2500 امریکی اہلکار تعینات ہیں اور یہ ویتنام سے لے کر عراق اور افغانستان تک ہونے والی امریکی فوجی کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے۔ گزشتہ سال یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی مہم کے دوران امریکہ نے یہاں جوہری صلاحیت کے حامل بی ٹو اسپرٹ بمبار طیارے بھی تعینات کیے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ برطانوی اڈوں کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے کر اپنے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی خود ساختہ حد 1240 میل ہے، تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے خلائی پروگرام کی آڑ میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے۔
ڈیاگو گارشیا بحر ہند میں واقع چاگوس جزائر کا حصہ ہے جن پر 1814 سے برطانیہ کا کنٹرول ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں برطانیہ نے امریکی فوجی اڈے کی تعمیر کے لیے یہاں سے تقریباً 2000 مقامی افراد کو بے دخل کر دیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ برطانیہ پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنی نوآبادیاتی انتظامیہ ختم کر کے ان جزائر کا اقتدار موریشس کے حوالے کرے۔
برطانوی حکومت نے گزشتہ برس موریشس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت جزائر کی خودمختاری اسے منتقل کی جانی تھی، جبکہ برطانیہ نے ڈیاگو گارشیا کے اڈے کو 99 سال کے لیے لیز پر حاصل کرنا تھا۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حماقت قرار دیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کی منظوری کا عمل بھی فی الحال روک دیا گیا ہے تاکہ امریکی حمایت دوبارہ حاصل کی جا سکے۔
