سائپرس میں برطانوی فضائی اڈے پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے حملے کے بعد برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اپنے قبرصی اڈوں کو کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔
یہ یقین دہانی برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائیڈس کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آئی ہے۔ قبرصی حکومت کے ترجمان نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جمہوریہ قبرص کی سلامتی برطانیہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ترجمان کے مطابق برطانوی حکومت نے قبرص میں موجود حفاظتی اقدامات کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ قبرص میں قائم برطانوی اڈے کسی بھی جارحانہ فوجی آپریشن میں استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ دو مارچ کو جنوبی قبرص میں واقع برطانوی فضائی اڈے اکروتیری پر ایک ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے حملے سے تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا تھا، جبکہ دو مزید ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے اب تک کسی اور سیکیورٹی واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
برطانیہ نے 1960 میں قبرص کو آزادی دینے کے وقت جزیرے پر اپنے دو اہم فوجی اڈوں کا خودمختار کنٹرول اپنے پاس برقرار رکھا تھا۔
