ایران کی ڈیفنس کونسل نے پیر کے روز سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے جنوبی ساحلوں یا جزائر پر کوئی حملہ کیا گیا تو خلیج فارس کے تمام سمندری راستوں کو بارودی سرنگیں بچھا کر بند کر دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ساحل سے چھوڑی جانے والی تیرتی بارودی سرنگوں سمیت مختلف اقسام کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا، جس سے پوری خلیج کی صورتحال طویل عرصے تک آبنائے ہرمز جیسی ہو جائے گی۔ کونسل نے یاد دلایا کہ 1980 کی دہائی میں سو سے زائد مائن سویپرز چند بارودی سرنگیں ہٹانے میں ناکام رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز کو تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس کے لیے ایران کے اہم ترین تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے یا ناکہ بندی کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ غیر متحارب ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ قائم کرنا ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر تیل کی کل رسد کا پانچواں حصہ لے جانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل کی حمایت کے بعد سے صدر ٹرمپ کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں زمینی آپریشن کے واضح اشارے دے دیے ہیں اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے ایک اہم پل کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کا عزم ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان جاپان کے وزیر نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے تو ان کا ملک آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے معاملے پر غور کر سکتا ہے۔
