-Advertisement-

لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر لیوی میں اضافہ: حکومتی اقدام کی مالیاتی توجیہ

تازہ ترین

نئی دھمکیوں کے بعد خاموشی اختیار نہیں کر سکتے، کینیڈین سکھ رہنما کا بیان

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین مونیندر سنگھ نے عالمی برادری سے...
-Advertisement-

وفاقی حکومت کی جانب سے ہائی اوکٹین ایندھن پر پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافے کا فیصلہ معاشی نقطہ نظر سے ایک منطقی قدم دکھائی دیتا ہے۔ اس ایندھن کا استعمال زیادہ تر لگژری اور ہائی پرفارمنس گاڑیوں کے مالکان تک محدود ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو ماہانہ تقریباً نو ارب روپے حاصل ہوں گے، جس کا مقصد عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے۔

تاہم، اس اقدام کو ایک مستقل حکمت عملی کے بجائے محض ایک عارضی حل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں یہ قدم بہت محدود ہے اور یہ ان بنیادی ساختی مسائل کا حل پیش نہیں کرتا جو پاکستان کو بیرونی توانائی کے بحرانوں کے سامنے غیر محفوظ بناتے ہیں۔ ان مسائل میں درآمدی ایندھن پر گہرا انحصار اور محدود مالی گنجائش شامل ہیں۔ اصلاحات کے بغیر وقتی ریلیف صرف مستقبل کے قرضوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا یہ اعتراف کہ امید کوئی حکمت عملی نہیں ہے، موجودہ توانائی بحران کے تناظر میں حکومت کی مجموعی پالیسی پر بھی صادق آتا ہے۔ ایندھن الاؤنس میں کمی یا ورک فرام ہوم جیسے اقدامات ناکافی ہیں۔ عالمی سطح پر جاری کشیدگی اگر تھم بھی جائے، تو سپلائی چین میں خلل اور تجارتی راستوں کی تبدیلی کے اثرات طویل عرصے تک قیمتوں کو بلند رکھ سکتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مستقل ساختی نوعیت کے اقدامات کیے جائیں۔ مارکیٹوں، ریستورانوں اور کاروباری مراکز کے جلدی بند ہونے جیسے اقدامات کو ہنگامی ضرورت کے بجائے بنیادی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اب تک توانائی کے غیر موثر استعمال پر قابو نہیں پایا جا سکا، لیکن ملکی معاشی صورتحال اب مزید تاخیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

وزیراعظم شہباز شریف بار بار اشرافیہ سے قربانی دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، تاہم مسئلہ صرف قربانی کا نہیں بلکہ بااثر طبقات کی جانب سے ٹیکس کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے کا ہے۔ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ تب تک بے اثر رہے گا جب تک ٹیکس کا دائرہ کار وسیع نہیں کیا جاتا اور طاقتور طبقوں کو ملنے والی مراعات ختم نہیں کی جاتیں۔ موجودہ بحران یہ ثابت کر رہا ہے کہ جب تک معاشی عدم توازن برقرار رہے گا، بیرونی جھٹکے اندرونی عدم استحکام پیدا کرتے رہیں گے، جس کے لیے حکومت کو اپنی پالیسیوں میں مزید سنجیدگی اور عزم کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -