اسلام آباد سے پاکستان اور افغانستان کے علماء پر مشتمل ایک گروپ نے دونوں ممالک کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر شروع ہونے والے عارضی جنگ بندی کے عمل کو عید الاضحیٰ تک توسیع دی جائے۔
اس سے قبل اٹھارہ مارچ کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عید الفطر سے تین روز قبل ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست اور حکومت پاکستان کے اپنے فیصلے کے تحت آپریشن غضب للحق کے دوران عارضی جنگ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ جنگ بندی اٹھارہ مارچ کی شب سے تئیس مارچ کی شب تک نافذ رہی تھی۔ پاکستان نے یہ آپریشن چھبیس فروری کو افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار فائرنگ کے بعد شروع کیا تھا۔
منگل کے روز جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے پر پاکستان اور افغانستان کے گیارہ گیارہ علماء نے دستخط کیے ہیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کے تعاون سے یہ ایک مخلصانہ اور سنجیدہ کوشش ہے تاکہ تنازعات کا باعزت اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
علماء نے مطالبہ کیا ہے کہ عید الاضحیٰ تک جنگ بندی کو بڑھایا جائے تاکہ عوام پرامن ماحول میں حج کے فرائض سرانجام دے سکیں۔ اعلامیے کے مطابق یہ امن تحریک محض جنگ بندی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے تحت دونوں ممالک کے مابین دیرینہ مسائل کے منصفانہ اور قابل قبول حل کے لیے تمام تر سفارتی اور سماجی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
علماء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی کوششوں کا مقصد ایسا حل تلاش کرنا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور خطے میں پائیدار استحکام اور ہم آہنگی کی بنیاد رکھ سکے۔
