شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری ہتھیاروں سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کو ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
منگل کے روز ریاستی خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ اُن نے سپریم پیپلز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری حیثیت کو ناقابل تنسیخ عمل کے طور پر مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس کا اشارہ ایران پر ہونے والے فوجی حملوں کی جانب تھا۔
شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ وہ اپنے آئینی مشن کے تحت دفاعی جوہری صلاحیت کو مزید وسعت دیں گے۔ برسوں کی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود شمالی کوریا کے پاس درجنوں جوہری وار ہیڈز موجود ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور وہ مسلسل جدید میزائل نظام تیار کر رہا ہے۔
کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ اپنے جنوبی ہمسائے کو سب سے زیادہ دشمن ریاست قرار دے گا اور اسے پوری طرح مسترد کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کے یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کی قیادت ایران اور وینزویلا کے معاملات پر گہری تشویش رکھتی ہے اور ان حالات کو اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کرنے کے فیصلے کی تائید کے طور پر دیکھتی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکشوں کو پیانگ یانگ نے مسلسل نظر انداز کیا ہے۔
