-Advertisement-

پلڈاٹ کی رپورٹ: قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

تازہ ترین

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مشرق وسطیٰ کے لیے آرنالٹ کو اپنا خصوصی ایلچی مقرر کر دیا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے اور امن کوششوں کو...
-Advertisement-

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یعنی پلڈاٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی پر مبنی ایک جامع جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت کے دوسرے سال کے آغاز یعنی پانچ مارچ دو ہزار پچیس کے بعد کے حالات کا احاطہ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کا انعقاد انتہائی غیر مستقل رہا اور مجموعی طور پر کمیٹی نے صرف تین بار ہی اجلاس بلائے۔ پلڈاٹ نے اس طرزِ عمل کو غیر فعال اور بحرانی صورتحال میں ردعمل دینے تک محدود قرار دیا ہے۔

اپریل سے جون دو ہزار پچیس کے دوران ہونے والے اجلاسوں میں سول و عسکری قیادت کے مابین مشاورت اور قومی ردعمل کو مربوط کرنے میں کمیٹی کا کردار نمایاں رہا۔ یہ اجلاس بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے اور سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں طلب کیے گئے تھے۔

جون دو ہزار پچیس کا اجلاس خطے کی وسیع تر صورتحال کے جائزے کے لیے بھی استعمال ہوا جس میں ایران پر اسرائیلی حملوں جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس ثابت کرتے ہیں کہ کمیٹی فوری بحرانوں سے نمٹنے کے علاوہ تزویراتی مشاورت کا اہم پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا استعمال تاحال غیر روایتی اور غیر مستقل ہے۔ کمیٹی ایک منظم فورم کے بجائے محض بحرانوں سے نمٹنے والے ادارے کے طور پر کام کرتی رہی ہے جس کی وجہ سے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ متوازی رابطہ کاری کے طریقہ کار نے قومی سلامتی کمیٹی کی ادارہ جاتی اہمیت اور تزویراتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، وہ اجلاسوں کے تسلسل کے فقدان کے باعث اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پلڈاٹ نے سفارش کی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کو داخلی اور خارجی سلامتی کے امور پر غور کرنے کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم بنایا جائے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت کمیٹی کے ماہانہ اجلاسوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ قومی سلامتی کے فریم ورک کو مزید مضبوط اور تزویراتی مکالمے کا محور بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -