-Advertisement-

وفاقی آئینی عدالت کا آئینی تشریح میں اپنی بالادستی کا اعلان

تازہ ترین

اسلام آباد میں پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے 100 ری چارج کنویں تعمیر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے...
-Advertisement-

فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئینی تشریح اور فیصلوں میں حتمی اختیار اب اسی عدالت کا ہے اور سپریم کورٹ سمیت ملک کی تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی جانب سے تحریر کردہ 16 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت عدالتی نظائر کا اختیار تبدیل ہو چکا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کو اب نئی آئینی ترتیب کی روشنی میں پڑھا جانا چاہیے، جس کے تحت فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کا اختیار اب سپریم کورٹ پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔

فیصلے میں اصول وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت عدالت سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں سے انحراف کر سکتی ہے۔ ان اصولوں میں آئینی متن سے تضاد، بنیادی حقوق کی پامالی، عدالتی تجاوز، یا جمہوری اقدار سے مطابقت نہ رکھنا شامل ہے۔ عدالت نے وضاحت کی کہ عدالتی فیصلوں کی پابندی کا انحصار ادارہ جاتی سینئرٹی پر نہیں بلکہ آئینی درجہ بندی پر ہے۔

فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے قیام کے بعد سے اس کے فیصلے اب اس عدالت پر لازم نہیں ہیں، تاہم اگر وہ فیصلے آئین اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوں تو انہیں ایک قوی قانونی حیثیت حاصل رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ سٹیر ڈیسائس کے اصول کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے آئینی بالادستی کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔

بچوں کی شادی سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران جاری ہونے والے اس فیصلے میں مذہبی معاملات پر بھی رائے دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایمان کا تعلق فرد کی ذات سے ہے اور اگر کوئی شخص کھلے عام اپنے مذہب کا اظہار کرے تو اس کی تصدیق کے لیے مزید شواہد کی ضرورت نہیں ہوتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام میں کسی غیر مسلم کے لیے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کسی مخصوص رسومات کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ کلمہ طیبہ کا اقرار، اللہ کی وحدانیت، ختم نبوت اور قرآن مجید پر ایمان لانا ہی کافی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -