اسلام آباد میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بڑے منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سی ڈی اے ہیڈکوارٹر میں چیئرمین اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شہر بھر میں 100 برساتی پانی کے ریچارج ویلز اور 20 واٹر سٹوریج ٹینک تعمیر کیے جائیں گے۔
اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبران پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انوائرمنٹ اسفند یار بلوچ اور ڈی جی اسلام آباد واٹر عمران علی زیدی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ وفاقی دارالحکومت میں پانی کی فراہمی کے نظام کو شفاف اور جدید بنانے کے لیے سکاڈا سسٹم اور فلو میٹرز کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ عمارتوں کی چھتوں پر برساتی پانی کو جمع کرنے کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں واٹر ٹینکر سروس اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ڈیش بورڈ پر مبنی جدید نظام کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ڈیم منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ شاہدرہ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور ڈیزائن کا مرحلہ حتمی مراحل میں ہے۔ دوٹارہ ڈیم کی فزیبلٹی پر کام جاری ہے جو مئی 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ کورنگ نالہ کے ساتھ تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور 11 ویٹ لینڈز کے قیام کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
محمد علی رندھاوا نے تمام منصوبوں کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کرنے اور پانی کے بلوں کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد واٹر ایجنسی کا قیام پانی کے مسائل کا مستقل حل نکالنے اور نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد وفاقی دارالحکومت میں پانی کی فراہمی کے نظام کو موثر اور شفاف بنانا ہے۔
