پوپ لیو چہار دہم نے موناکو کے ایک روزہ دورے کے موقع پر وہاں کے باسیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی دولت، اثر و رسوخ اور کیتھولک عقیدے کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے خاص طور پر زندگی کے تقدس کے تحفظ سے متعلق کیتھولک تعلیمات کی پاسداری پر زور دیا۔
یہ 1538 کے بعد کسی بھی پوپ کا موناکو کا پہلا دورہ ہے۔ ہیلی پورٹ پر شہزادہ البرٹ اور شہزادی شارلین نے پوپ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر روایتی توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ شاہی محل کے صحن میں شاہی خاندان کے ارکان نے پوپ کا خیرمقدم کیا۔ پروٹوکول کے مطابق شہزادی شارلین نے سفید لباس زیب تن کیا تھا، جو ویٹیکن کی جانب سے کیتھولک شاہی حکمرانوں کو حاصل ایک خصوصی استحقاق ہے۔
محل کی بالکونی سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے موناکو کے رہائشیوں سے کہا کہ وہ اپنی دولت اور چھوٹے رقبے جیسی نعمت کو عالمی امن کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے موجودہ دور کے تناظر میں کہا کہ طاقت کا مظاہرہ اور جبر کی منطق دنیا کو نقصان پہنچا رہی ہے اور امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
بعد ازاں کیتھیڈرل میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کیتھولک پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنے عقیدے کو پھیلائیں تاکہ ہر مرد و زن کی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ویٹیکن کی اصطلاح میں ان الفاظ کا مقصد اسقاط حمل اور یوتھینیشیا یعنی خودکشی میں معاونت کی مخالفت کرنا ہے۔
موناکو ان چند یورپی ممالک میں شامل ہے جہاں کیتھولک مذہب کو سرکاری حیثیت حاصل ہے۔ شہزادہ البرٹ حال ہی میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز کو مسترد کر چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ موناکو کے معاشرے میں کیتھولک اقدار کا کلیدی کردار ہے۔
موناکو، جو اپنی دولت، فارمولا ون گراں پری اور شاہی خاندان کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے، کی آبادی 38 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس دورے کے دوران پوپ لیو نے کیتھولک برادری سے ملاقات کی اور کھیلوں کے اسٹیڈیم میں خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر پوپ کا خیرمقدم کیا اور ویٹیکن کے پرچم لہرائے۔
