روس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین صحافیوں کی ہلاکت کو قتل قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس خونی عمل کو اب ہمیشہ کے لیے ختم کیا جانا چاہیے۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا جس کا ہدف میڈیا ورکرز کی ایک عام گاڑی تھی جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں نے پریس کے خصوصی نشانات والی جیکٹس پہن رکھی تھیں، تاہم یہ حفاظتی علامتیں بھی انہیں اسرائیل کے درست نشانے والے ہتھیاروں سے نہ بچا سکیں۔
روسی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے اس موقف کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑی میں دہشت گرد موجود تھے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس سنگین جرم سے اپنی ذمہ داری جھاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے واضح کیا کہ یہ حملہ غیر مسلح شہریوں پر کیا گیا جنہیں بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
روسی حکومت نے یاد دلایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شہریوں اور میڈیا ورکرز کو نشانہ بنانے کا یہ عمل نیا نہیں ہے، صرف دس روز قبل اسی طرح کے ایک حملے میں آر ٹی نیوز کی ٹیم بال بال بچی تھی۔ اس معاملے پر روس نے تل ابیب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر اوڈیڈ جوزف کو بھی طلب کیا تھا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی علاقوں میں کسی بھی صورت صحافیوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر صحافیوں کو ہدف بنایا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
جنوبی لبنان کے شہر جزین کے قریب ہونے والے اس فضائی حملے میں تین صحافی جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں علی شعیب کی ہلاکت کا اعتراف تو کیا ہے تاہم دیگر دو صحافیوں کی موت پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
