پشاور پریس کلب میں پیر کے روز منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران پشاور ڈسٹرکٹ کے سابق بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد انتقامی کارروائی کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کے نظام کو دانستہ طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
سابق بلدیاتی نمائندگان کی ایسوسی ایشن کے صدر اور پشاور ڈسٹرکٹ کے آل ناظمین نیبرہوڈ کونسل اینڈ ولیج کونسل آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ امان اللہ خان نے دیگر سابق ناظمین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2019 کے انتخابات کے فوری بعد پی ٹی آئی کی صوبائی کابینہ نے بلدیاتی ایکٹ میں من مانی ترامیم کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
امان اللہ خان نے مزید کہا کہ ان ترامیم کا بنیادی مقصد منتخب نمائندوں کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق سے محروم کرنا اور ان کے اختیارات کو سلب کرنا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے اس رویے کو جمہوریت کے نچلی سطح پر فروغ دینے کے عمل کے منافی قرار دیا۔
