-Advertisement-

ہیٹی میں قتلِ عام: انسانی حقوق کی تنظیم کا 70 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

تازہ ترین

پوپ کے بیان پر وائٹ ہاؤس کا امریکی فوجیوں کے لیے دعاؤں کا دفاع

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے امریکی فوجیوں کے لیے دعائیں کرنے کے عمل کا دفاع کیا ہے، یہ ردعمل...
-Advertisement-

ہیٹی کے زرعی خطے آرٹیبونائٹ میں مسلح گروہوں کے وحشیانہ حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیم ڈیفنسرز پلس کے مطابق پیر کے روز تک کم از کم 70 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے، جبکہ حکومتی اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد 16 سے 17 کے درمیان بتائی گئی ہے۔

یہ پرتشدد کارروائی اتوار کی صبح جین ڈینس کے دیہی علاقوں میں شروع ہوئی اور پیر کی صبح تک جاری رہی۔ مسلح گروہوں نے گھروں پر دھاوا بولا اور متعدد عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اندازے کے مطابق اس حملے کے باعث 6 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہیٹی میں قائم اقوام متحدہ کا دفتر صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور ہلاکتوں کی تخمینہ تعداد 10 سے 80 کے درمیان ہے۔ ترجمان نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیفنسرز پلس اور کولیکٹو ٹو سیو دی آرٹیبونائٹ نے ایک مشترکہ بیان میں حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنا اور علاقے کو مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ریاستی ذمہ داریوں سے انحراف ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ آڈیو پیغام میں گران گریٹ گروہ کے سربراہ لکسن ایلان نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ ان کے مخالف گروہ کی جانب سے ساوین میں کیے گئے حملوں کا انتقام تھا۔

ہیٹی کی نیشنل پولیس نے جوابی کارروائی کے لیے تین بکتر بند گاڑیاں روانہ کیں، تاہم سڑکوں پر گڑھے کھودے جانے کے باعث پیش قدمی میں رکاوٹ آئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد فرار ہو چکے ہیں اور ان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

ہیٹی میں 2021 سے اب تک تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گران گریٹ اور ویو آنسانم نامی گروہوں کو امریکہ نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے، جن پر قتل، عصمت دری، لوٹ مار اور انسانی اعضاء کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی اسی گروہ کے حملے میں 115 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -