بال ٹیمپرنگ کے سنگین الزامات کے تحت قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹر فخر زمان پر دو میچوں کی پابندی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ میچ ریفری نے معاملے کی سماعت مکمل کر لی ہے اور فریقین کو فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان منگل کے روز متوقع ہے۔
لاہور قلندرز کے بلے باز فخر زمان نے اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب لاہور قلندرز کی انتظامیہ اپنے کھلاڑی کی مکمل حمایت کر رہی ہے اور ذرائع کے مطابق اگر فخر زمان پر پابندی عائد کی گئی تو قانونی چارہ جوئی کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ چند روز قبل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پیش آیا تھا جب کراچی کنگز کو لاہور قلندرز کے خلاف آخری اوور میں جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوورز کے درمیان وقفے کے دوران شاہین آفریدی، حارث رؤف اور فخر زمان ایک ساتھ موجود تھے، اس دوران فخر زمان نے حارث رؤف سے گیند لے کر مبینہ طور پر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور واپس حارث کو تھما دی۔
امپائر نے فوری طور پر حارث رؤف سے گیند واپس لے کر اسے تبدیل کر دیا اور لاہور قلندرز پر پانچ رنز کی پینلٹی عائد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد کراچی کنگز کے لیے ہدف 14 رنز سے کم ہو کر 9 رنز رہ گیا، جسے انہوں نے صرف تین گیندوں پر حاصل کر لیا۔
یہ کارروائی پی ایس ایل کے پلے انگ کنڈیشنز کی شق 41.3 کے تحت عمل میں لائی گئی، جو امپائرز کو اختیار دیتی ہے کہ اگر انہیں گیند کی حالت تبدیل کرنے کا شبہ ہو تو وہ اس کا قریبی معائنہ کریں۔ شق 41.3.5.1 کے مطابق بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دستیاب چھ گیندوں میں سے متبادل گیند کا انتخاب کر سکے۔
پی ایس ایل کے ضوابط کی شق 41.3.5.3 کے تحت اگر امپائر گیند کی حالت تبدیل کرنے والے کھلاڑی کی نشاندہی کر لیں اور بیٹنگ کرنے والی ٹیم متبادل گیند کا مطالبہ کرے تو مخالف ٹیم پر پانچ رنز کی پینلٹی عائد کی جاتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اتوار کی شب جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ فخر زمان نے پی ایس ایل پلے انگ کنڈیشنز کی شق 41.3 کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان پر کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.14 کے تحت لیول تھری کا جرم عائد کیا گیا ہے، جس کا اطلاق گیند کی حالت تبدیل کرنے والے اقدامات پر ہوتا ہے۔ فخر زمان نے میچ ریفری روشن ماہنامہ کے سامنے ہونے والی ابتدائی سماعت میں بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔
