صوبہ سندھ میں تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز یکم اپریل سے ہوگا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام سرکاری و نجی اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں دوبارہ کھل جائیں گی اور تدریسی عمل کا آغاز آن لائن کے بجائے بالمشافہ کلاسوں کے ساتھ ہوگا۔
اعلان کے مطابق تعلیمی ادارے اب ہفتے کے روز بند رہیں گے، جبکہ نئے تعلیمی سال کا آغاز بھی یکم اپریل سے ہی کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے طلبا اور عملے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دینے پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے 16 مارچ سے 31 مارچ تک حکومتی بچت مہم اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں بند رکھے گئے تھے۔ یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیے گئے ہیں جن کا مقصد عالمی ایندھن بحران کے پیش نظر حکومتی اخراجات میں کمی اور توانائی کی بچت کرنا ہے۔
سندھ حکومت نے 10 مارچ سے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت 60 فیصد گاڑیاں اپریل تک سڑکوں سے ہٹا دی گئی ہیں۔ بچت مہم کے تحت صوبائی وزراء نے اپریل، مئی اور جون کی تنخواہیں اور الاؤنسز نہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی پالیسی کے تحت نئی گاڑیوں اور فرنیچر کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ سرکاری دفاتر میں ضیافتوں اور ریفریشمنٹ پر بھی پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔
