بیروت کے جنوبی مضافات میں مقیم بارہ سالہ شامی بچی نریمان العیسیٰ کی زندگی ایک ماہ قبل تک دیگر بچوں کی طرح معمول کے مطابق تھی، جہاں وہ اپنے کھلونوں سے کھیلتی اور سائیکل چلاتی تھی۔ تاہم اسرائیلی فضائی حملے نے اس کے بچپن کی تمام خوشیوں کو خاک میں ملا دیا، جس کے نتیجے میں نریمان کے والدین اور بہن بھائی جاں بحق ہو گئے اور ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
والدین اور بہن بھائیوں کے کھونے کے بعد اب یہ کم سن بچی تعلیم سے محروم ہو کر بیروت کی سڑکوں پر اپنے دور کے رشتہ داروں کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
نریمان ان دس لاکھ بے گھر ہونے والے افراد میں شامل ہے جو اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری فضائی حملوں اور انخلا کے احکامات کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لبنان کے دارالحکومت میں یہ بچی اب زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم کھلے آسمان تلے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
