-Advertisement-

اسلام آباد: تاجر عامر اعوان کے قتل کا معمہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے 24 گھنٹوں میں حل

تازہ ترین

برطانیہ اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے کنگ چارلس کا دورہ امریکا متوقع

برطانیہ کے بادشاہ چارلس اپریل کے آخر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک...
-Advertisement-

اسلام آباد پولیس نے مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل کا معمہ صرف چوبیس گھنٹوں میں حل کر لیا ہے۔ مقتول گزشتہ شب شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں ایک نجی موٹر کمپنی کے شوروم کے قریب ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس سید ناصر رضوی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے لیے سترہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ کارروائی کے دوران چھ مقامات کی جیو فینسنگ کی گئی اور ایک سو سینتیس کال ڈیٹیلز کا موازنہ کیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد کے مطابق کیس کے سراغ رسی کے لیے دو سو ستاون کیمروں کی فوٹیج کا فرانزک تجزیہ کیا گیا اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔ اس عمل کے دوران ترانوے افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور تفتیش کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے راولپنڈی، اسلام آباد، چارسدہ اور مردان میں اکتیس چھاپے مارے گئے جس کے نتیجے میں چارسدہ سے منصور خان ڈکیت گینگ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بین الصوبائی گروہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد میں وارداتوں میں ملوث تھا اور دورانِ ڈکیتی بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال کرتا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے جبکہ گرفتار افراد میں دو غیر افغان شہری بھی شامل ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کیس کو اسلام آباد پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال دیگر صوبوں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں سفارت کاروں اور غیر ملکی وفود کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے چیلنجز منفرد نوعیت کے ہیں۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا مکمل انٹیگریٹڈ سیف سٹی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد پولیس کو طویل عرصے سے وسائل کی کمی اور فرانزک لیبارٹری نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، تاہم اب سیف سٹی کیمروں کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -