-Advertisement-

آبنائے ہرمز: ٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ، اتحادیوں پر انحصار سے گریز

تازہ ترین

ایران کے ساتھ کشیدگی: وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی امریکی کانگریس میں پیشی متوقع

واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ 29 اپریل کو ایوانِ نمائندگان کی...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تاحال آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اتحادیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم وہ فی الحال امریکی افواج کو اس آپریشن سے فوری طور پر نہیں نکال رہے۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اپنے فوجی اثاثے شامل نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب امریکہ پیچھے ہٹ جائے گا لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ انہوں نے زور دیا کہ دیگر ممالک کو اب آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی کیونکہ ایران کی فوجی طاقت کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں پر حملوں کے باوجود ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس اہم تجارتی راستے پر کوئی بڑا خطرہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے نیٹو اور دیگر اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں تیل کی ضرورت ہے تو وہ خود آئیں اور اپنی حفاظت کا انتظام کریں۔ ان کے مطابق ایران کی عسکری قوت اب ختم ہو چکی ہے اور وہ مکمل طور پر بکھر چکا ہے۔

امریکی فوجی آپریشن کے دورانیے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے کوئی حتمی تاریخ تو نہیں دی تاہم اشارہ دیا کہ یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکمت عملی شیڈول سے دو ہفتے آگے ہے اور جنگ اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی تنصیبات کو تباہ کیا جا چکا ہے اور اب یہ خطرہ نہیں رہا۔ انہوں نے گزشتہ جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری مراکز پر بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری مواد انتہائی گہرائی میں دفن ہے اور اسے نکالنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں مکمل حکومت کی تبدیلی ہو چکی ہے اور موجودہ قیادت پہلے سے زیادہ معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -