-Advertisement-

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، تین اقوام متحدہ کے امن کار ہلاک

تازہ ترین

امریکی و اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار سے زائد شہری جاں بحق، ایران کا دعویٰ

تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی ہلال احمر نے امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملوں کے نتیجے...
-Advertisement-

جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفل کے تین انڈونیشی اہلکار دو الگ الگ واقعات میں ہلاک ہو گئے۔ پیر کے روز پیش آنے والے ایک واقعے میں نامعلوم مقام سے داغے گئے گولے سے تباہ ہونے والی گاڑی کے نتیجے میں دو امن کار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب جنوبی لبنان کے گاؤں ادچیت القصیر کے قریب ایک شیل کے دھماکے سے ایک انڈونیشی فوجی ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا تھا۔ یہ ہلاکت دو مارچ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والی حالیہ جنگ میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے کسی اہلکار کی پہلی موت تھی۔

یونیفل کی ترجمان کینڈس آرڈیل کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں اور ان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جکارتہ کا موقف ہے کہ یہ محض الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ جنوبی لبنان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا عکاس ہیں جہاں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے اقوام متحدہ کے امن کاروں کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس گھناؤنے حملے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات پر زور دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں ان دونوں واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ دھماکے حزب اللہ کی کارروائی کا نتیجہ تھے یا اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کا۔ یہ ہلاکتیں ایک ایسے خونی ویک اینڈ کے بعد ہوئی ہیں جس میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں صحافی اور طبی عملے کے ارکان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -