وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر تقریباً 100 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے سے زائد کا فرق موجود ہے۔ حتمی قیمت کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات اور اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تازہ ترین حساب کتاب کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
وفاقی حکومت گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایندھن پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے اور اسے 158 ارب روپے تک محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ سبسڈی کا بوجھ اٹھانے میں وفاق کا ساتھ دیں۔ پنجاب اور سندھ آبادی کے تناسب سے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ایندھن کی کھپت کی بنیاد پر مالی بوجھ بانٹیں گے۔
صوبائی حکومتوں نے ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایک قومی منصوبے کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو سبسڈی والا ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ سندھ حکومت ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کی معاونت کرے گی جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی اسی طرز کے ماڈل اپنائیں گے۔
ایندھن پر سبسڈی کی ہفتہ وار ضرورت 15 سے 18 ارب روپے ہے جو بڑھ کر 30 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ صوبوں نے بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاہم بڑے شہروں سے باہر رہائش پذیر افراد پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
