وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز حکام کو ہدایت کی ہے کہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع طویل مدتی حکمت عملی تیار کی جائے۔
اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لائحہ عمل تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے باہمی تعاون سے تشکیل دیا جائے جس کا بنیادی مقصد معاشی استحکام اور کلیدی شعبوں میں پائیدار ترقی کا حصول ہو۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ پیداواری لاگت میں اضافے کے برآمدات اور قومی پیداوار پر اثرات کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات تجویز کریں تاکہ زرعی اور صنعتی شعبوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک بنیادی اشیائے ضروریہ کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے اس اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان نے اب تک اس صورتحال کو بروقت اور موثر انداز میں سنبھالا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارتیں اور ادارے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر معاشی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور عوامی فلاح کے تحفظ کے لیے مزید چوکس رہنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں حکام نے آگاہ کیا کہ ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد سرپلس پیداوار کی برآمدات بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
شہباز شریف نے عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام، ترقی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مالیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے مربوط ردعمل کی تعریف کی اور اداروں کے مابین تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔
