پاکستان اور ناروے کے درمیان بدھ کے روز ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک تاریخی دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ پیرس معاہدے کی شق چھ اعشاریہ دو کے تحت ہونے والا یہ پاکستان کا پہلا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے ذریعے کاربن ٹریڈنگ، کلائمیٹ فنانس اور کلین انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔
اسلام آباد میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب کو پاکستان کی کلائمیٹ ڈپلومیسی میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان قابل تجدید توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں کاربن کریڈٹ پیدا کرنے والے منصوبے شروع کر سکے گا، جس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کاربن اخراج میں کمی کو ناروے خرید سکے گا۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے اس پیش رفت کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کاربن مارکیٹ کی تیاری کے مرحلے سے نکل کر عملی نفاذ کی جانب بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں مستحکم مقام دلانے کے ساتھ ساتھ سبز معیشت کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
مصدق ملک نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ نے جنوری دو ہزار پچیس میں کاربن ٹریڈنگ کے لیے قومی پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی اور اب حکومت اس مارکیٹ کو فعال کرنے کے لیے ضروری ضوابط اور رپورٹنگ سسٹم قائم کر رہی ہے۔
ناروے کے سفیر پر البرٹ الساس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناروے دو ہزار تیس تک کلائمیٹ نیوٹرل بننے کا عزم رکھتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ بین الاقوامی سطح پر کاربن کریڈٹس خرید رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناروے کا مقصد صرف اپنے قومی اہداف تک محدود رہنا نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ماحولیاتی بہتری لانا ہے۔
نارویجن سفیر نے بتایا کہ ناروے کی پارلیمنٹ نے دو ہزار چوبیس میں ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے بجٹ سے گلوبل ایمیشن ریڈکشن انیشی ایٹو شروع کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان جیسے ممالک کو فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے منصوبے پیش کرے جن میں سولر اور ونڈ پاور کے منصوبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے حکام کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کو سیلاب، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے درکار بین الاقوامی فنڈز تک رسائی میں مدد دے گا اور ملک کو کم کاربن والی معیشت کی جانب گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
