ایران نے جمعرات کے روز اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے اور وہ اپنے جنگی اہداف کے حصول کے قریب ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائلوں کو دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے بعد ازاں شہریوں کے لیے پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایات واپس لے لی ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ یہ حالیہ حملے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کیے گئے ہیں جس میں انہوں نے ایرانی میزائل صلاحیتوں کی تباہی کا دعویٰ کیا تھا۔
خلیجی خطے میں سعودی عرب نے اطلاع دی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران چار ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔
ابوظہبی میں حکام نے خلیفہ اکنامک زونز کے قریب ایک میزائل کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے معمولی نقصان ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ صبح ساڑھے چار بجے کے قریب فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا جواب دیا جس کے دوران کئی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ وزارت دفاع نے ان آوازوں کو کامیاب دفاعی کارروائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری جانب امریکہ میں قائم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکی دینے پر صدر ٹرمپ کے ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے ان بیانات کو مسلم مخالف، نسل پرستانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کونسل نے جاری فوجی مہم کو جارحانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے امریکی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں، جن میں وار پاورز ریزولیوشن کی منظوری اور اعلیٰ دفاعی حکام کے کردار کا جائزہ لینا شامل ہے۔
