رائٹرز اور ایپوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق دو تہائی امریکی عوام چاہتے ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کو جلد از جلد ختم کرے، چاہے اس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے طے کردہ اہداف کا حصول ممکن نہ ہو سکے۔ سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے اس رائے کا اظہار کیا، جبکہ 27 فیصد کا ماننا ہے کہ امریکہ کو اپنے تمام اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھنی چاہیے، خواہ اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ چھ فیصد افراد نے اس سوال پر کوئی رائے نہیں دی۔
ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے حامیوں میں سے 40 فیصد نے اہداف کی پروا کیے بغیر جنگ کے فوری خاتمے کی حمایت کی، جبکہ 57 فیصد نے طویل المدتی شمولیت کے حق میں ووٹ دیا۔ ایک ماہ سے جاری اس جنگ کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے نے عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سروے میں شامل ایک ہزار اکیس افراد میں سے 60 فیصد نے ایران پر امریکی فوجی حملوں کی مخالفت کی، جبکہ 35 فیصد نے ان کارروائیوں کو درست قرار دیا۔ جنگ کے اثرات امریکی عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی نمایاں ہیں، جہاں گیس بڈی کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز پٹرول کی قیمت تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ دو تہائی امریکیوں کو خدشہ ہے کہ اگلے ایک سال کے دوران ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔
امریکی عوام کی نصف سے زائد تعداد کا یہ ماننا ہے کہ یہ تنازعہ ان کی ذاتی مالی حالت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ ریپبلکنز کے لیے یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر خاصی اہمیت رکھتی ہے، جن میں کانگریس میں ان کی معمولی اکثریت کا فیصلہ ہونا ہے۔ روایتی طور پر حکمران جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں نشستوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور موجودہ معاشی حالات اس سیاسی کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
