ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کو ہونے والی موسلادھار بارشوں نے نظام زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حکام نے شہر بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہری انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
کراچی کمشنر سید حسن نقوی کی ہدایت پر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ کسی بھی مدد کے حصول کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1299 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں بشمول گرومندر، گارڈن، صدر، اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، اسکیم 33، ملیر، ماڈل کالونی، شاہ فیصل کالونی، ڈیفنس، کلفٹن، کورنگی اور لانڈھی میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارش کے باعث بجلی کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس سے سرجانی ٹاؤن، لیاقت آباد، کیماڑی اور لیاری سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ شہریوں کو پانی جمع ہونے اور طویل بجلی تعطل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمرجنسی پلان کے تحت واٹر کارپوریشن، ٹاؤن انتظامیہ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا عملہ مشینری سمیت نکاسی آب اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ ضلعی سطح پر امدادی کیمپ اور ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ ضلع شرقی میں نرسری، نیپا چورنگی، نیشنل اسٹیڈیم، نمائش چورنگی، سمامہ چوک، مدرسہ چوک، صفورہ چورنگی اور سہراب گوٹھ میں کیمپ لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح ضلع جنوبی میں ڈی سی آفس ایم اے جناح روڈ، شاہین کمپلیکس، کے ایم سی ہیڈ آفس، لیاری ٹاؤن آفس اور چاکیواڑہ میں مراکز فعال ہیں۔ کیماڑی، سینٹرل اور کورنگی اضلاع میں بھی ماڈل کالونی، کالا بورڈ، نیشنل ہائی وے اور لانڈھی سمیت اہم مقامات پر امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے رین ایمرجنسی کے دوران مکمل طور پر فعال رہیں گے تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے اور شہریوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ موسم ابر آلود رہے گا اور تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
