-Advertisement-

ویلنگٹن واقعہ: ہیری بروک اور جیکب بیتھل کو ای سی بی کی جانب سے تنبیہ

تازہ ترین

ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور محال ہے، خواجہ آصف کا بھارتی دھمکیوں پر سخت ردعمل

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے...
-Advertisement-

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے آزاد ریگولیٹر نے ہیری بروک اور جیکب بیتھل کو گزشتہ برس ویلنگٹن میں پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے پر باضابطہ انتباہ جاری کر دیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں پر کرکٹ کے وقار کو مجروح کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے جس کے بعد انہیں تنبیہی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

واقعہ یکم نومبر کو نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل سے ایک رات قبل پیش آیا تھا۔ ہیری بروک نے تسلیم کیا کہ وہ رات گئے ایک نجی تقریب میں شراب نوشی میں مصروف تھے اور اس دوران ایک نائٹ کلب میں داخلے کی کوشش کے دوران انہیں سکیورٹی اہلکار کی جانب سے دھکا دیا گیا۔ بروک نے ابتدائی طور پر واقعے کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور جھوٹ بولا تھا کہ وہ اکیلے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے ہمراہ جیکب بیتھل اور جوش ٹنگ بھی موجود تھے۔

کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں کھلاڑی ای سی بی کے ضابطہ اخلاق کی شق تین اعشاریہ دو کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس شق کے تحت کسی بھی کھلاڑی کو ایسے کسی عمل کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے جو کرکٹ یا بورڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ دونوں کھلاڑیوں نے ریگولیٹر کا نوٹس تسلیم کر لیا ہے اور یہ انتباہ آئندہ تین برسوں تک ان کے تادیبی ریکارڈ کا حصہ رہے گا۔ جوش ٹنگ کے خلاف کوئی مزید کارروائی نہیں کی گئی۔

اس معاملے نے انگلش ٹیم کے دوروں کے دوران کھلاڑیوں کی جانب سے شراب نوشی اور ان کے ڈسپلن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ای سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم میں کچھ کھلاڑی غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں جس کے بعد بورڈ نے دورہ سری لنکا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل رات بارہ بجے کے کرفیو کا نفاذ کیا تھا۔

ہیری بروک جو کہ اس وقت انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان بھی ہیں، جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے قبل کاؤنٹی چیمپئن شپ میں یارکشائر کی نمائندگی کریں گے۔ دوسری جانب جیکب بیتھل اس وقت انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجرز بنگلورو کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -