وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی ممکن نہیں اور اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام کے ذریعے سامنے آیا جس میں بھارتی قیادت کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کو مسترد کیا گیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کو مبینہ مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ دراصل طاقت کا نہیں بلکہ ان کی اسٹریٹجک اضطراب کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان بازی پہلگام میں ہونے والے مبینہ جعلی فلیگ آپریشن کی برسی کے موقع پر سامنے آئی ہے جو عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور مصنوعی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس 22 اپریل کو پیش آنے والے پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا جسے اسلام آباد نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان نے اس واقعے کے بعد کشیدگی کے دور کو معرکہ حق کا نام دیا تھا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے تاہم ملکی خود مختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر بھارت نے کوئی غلطی کی تو پاکستان کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور، فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔
خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری طاقتوں کے مابین محدود جنگ کا تصور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک کے اندر موجود اسٹریٹجک اور سفارتی چیلنجز پر توجہ مرکوز کرے۔
