-Advertisement-

امریکی دباؤ کے پیش نظر کیوبا کی جانب سے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی

تازہ ترین

جرمنی: ایسٹر کی تقریب کے دوران درخت گرنے سے 10 ماہ کی بچی سمیت 3 افراد ہلاک

شمالی جرمنی میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں دس ماہ کی...
-Advertisement-

کیوبا کی حکومت نے جمعرات کی شب دو ہزار دس قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی اور ملکی خودمختاری کے تحت اٹھایا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عمل درآمد ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شدید دباؤ اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کیوبا کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رہا کیے جانے والوں میں نوجوان، خواتین، ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد، بیرون ملک مقیم کیوبن شہری اور غیر ملکی شامل ہیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا کہ سنگین پرتشدد جرائم میں ملوث قیدی اس عام معافی کے حقدار نہیں تھے۔

اس رہائی میں سیاسی قیدیوں کی شمولیت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ غیر منافع بخش تنظیم پریزنرز ڈیفنڈرز کے اعداد و شمار کے مطابق کیوبا میں بارہ سو گیارہ سیاسی قیدی موجود ہیں۔ رواں برس یہ کیوبا میں قیدیوں کی رہائی کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل گزشتہ ماہ اکیاون قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیوبا کو توانائی کے شدید بحران میں کچھ بہتری محسوس ہو رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیل برآمد کرنے والے ممالک پر بھاری محصولات کی دھمکی کے بعد کیوبا کو کئی ماہ تک ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم رواں ہفتے امریکہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو سات لاکھ بیرل سے زائد تیل کے ساتھ ہوانا بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ٹینکر کو داخلے کی اجازت انسانی بنیادوں پر دی گئی تاہم کیوبا کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کیوبا کو زندہ رہنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آئندہ فیصلوں کا انحصار حالات پر ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کیوبا کی حکومت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس ملک کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیوبا میں حکومت کی تبدیلی پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کو معاشی اور سیاسی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے اور موجودہ حکومتی نظام میں تبدیلی کے بغیر معیشت کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے۔

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل برموڈیز نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا سامنا ایک ناقابل تسخیر مزاحمت سے ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں سابق صدر راؤل کاسترو کا کردار بھی اہم بتایا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -