-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ بحران کے سائے میں فرانسیسی صدر کا دورہ جنوبی کوریا، دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا عزم

تازہ ترین

پاکستان کا علاقائی استحکام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مابین قریبی تعاون پر زور

پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے اور خطے میں پائیدار امن کے...
-Advertisement-

جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان سیول میں اہم ملاقات متوقع ہے جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو عالمی تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ صدارتی محل بلیو ہاؤس کے مطابق فرانسیسی صدر دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو سیول پہنچے، اس سے قبل وہ جاپان کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ سن 2015 کے بعد کسی بھی فرانسیسی صدر کا یہ پہلا دورہ جنوبی کوریا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب عالمی اور علاقائی سطح پر شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ مذاکرات کے دوران مشرق وسطیٰ کا بحران سر فہرست ہوگا کیونکہ دونوں ممالک توانائی کی درآمدات کے لیے اہم گزرگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پیرس، سیول سے میری ٹائم سیکیورٹی اقدام میں تعاون کا خواہاں ہے۔

تاہم صدر میکرون نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ سربراہی اجلاس کے بعد دونوں رہنماؤں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا جائے گا جس میں 140 سرکاری عہدیدار اور کاروباری شخصیات شریک ہوں گی۔ تقریب میں کے پاپ بینڈ اسٹری کڈز کے رکن فیلکس بھی بطور اعزازی سفیر شرکت کریں گے۔

دورے کے دوران صدر میکرون یونسی یونیورسٹی میں خطاب کریں گے اور وزیراعظم کم من سوک کے ہمراہ کاروباری فورم میں شرکت کریں گے۔ فرانسیسی صدر سام سنگ، نیور اور ہیونڈائی موٹر کے چیف ایگزیکٹوز سے بھی ملاقات کریں گے جس کا مقصد فرانسیسی برآمدات میں اضافہ اور صنعتی و تکنیکی شعبوں میں کورین سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ صدر لی جائے میونگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور نیوکلیئر انرجی جیسے شعبوں میں باہمی تعاون تک وسیع ہونے چاہئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں جنوبی کوریا کی فرانس کو برآمدات 6.4 ارب ڈالر رہیں جبکہ فرانس سے درآمدات کا حجم 8.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -