-Advertisement-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی دھمکی

تازہ ترین

ایران جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر غذائی اجناس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، ایف اے او

عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں مارچ کے دوران گزشتہ ستمبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ...
-Advertisement-

آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف ملک گیر ہڑتال اور پہیہ جام کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹینکرز چلانا ناممکن ہے، جس کے باعث کل سے تیل کی ترسیل معطل رہے گی۔

عبداللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں 184 سے 185 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک فریٹ ریٹس میں اضافہ نہیں کیا جاتا، کوئی بھی ٹینکر لوڈ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس احتجاج کے نتیجے میں خیبر پختونخوا، پنجاب اور دیگر علاقوں میں ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق حکام اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے ایک ہفتے سے رابطے جاری تھے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو بھی متعدد بار خطوط لکھے گئے مگر مطالبات پر کان نہیں دھرا گیا۔ عبداللہ آفریدی نے اسے ظلم اور ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقصان اٹھا کر گاڑیاں چلانے سے بہتر ہے کہ انہیں کھڑا رکھا جائے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد اسے 458 اعشاریہ 4 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم لیوی 106 روپے سے بڑھا کر 161 روپے فی لیٹر کر دی ہے۔ ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 63 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ اقدامات آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ناکام کوششوں کا حصہ ہیں۔ حکومت عالمی مالیاتی ادارے کو سبسڈی دینے پر قائل نہ کر سکی، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاشی صورتحال حکومت کی ناقص حکمت عملی اور ناکام مذاکرات کا نتیجہ ہے، جس کے باعث ملک 1973 کے بعد بدترین ایندھن بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -